بچوں میں نفسیاتی بیماری کی سب سے بڑی وجہ ، ماہرین نے موبائیل فون کو خطرناک قرار دے دیا۔

ماہرین کے مطابق ہمارے بچے اور نوجوان بہت تیزی سے ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو رہے ہیں جس کی جڑ انہوں نے موبائیل فون کو قرار دیا ہے۔ 
ایک ریسرچ کے مطابق سب سے زیادہ ایشیا میں نوجوان اور بچے موبائیل فون کی لت کا شکار ہو گئے ہیں جس کی وجہ  سے ان میں نومو فوبیا سمیت کئی نفسیاتی 
عارضے پیدا ہو رہے ہیں۔




جنوبی کوریا میں ایک حالیہ تحقیق کے دوران  1000 طالب علموں کا سروے کیا گیا جس میں 72 فی صد بچے 11 یا 12 سال کی عمر میں اپنے ذاتی سمارٹ فون کے مالک ہیں، وہ اوسطاً 5.4 گھنٹے روزانہ موبائل فون پر صرف کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تقریباً 25 فی صد بچوں کو موبائل فون کا عادی قرار دیا گیا ہے۔
یہ تحقیق اگلے سال شائع کی جائے گی ۔


ماہرین کے مطابق موبائیل فون کی لت پڑنے کی وجہ سے بچے اپنی پڑھائی اور دوسری سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں اور موبائیل نہ ہونے کی صورت میں ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
چین ان پہلے چند ممالک میں شامل ہے جہاں انٹرنیٹ کی لت کو طبی مرض قرار دیا گیا ہے اوراسے ختم کرنے کے لیے باقاعدہ کلینک قائم کیے گئے ہیں۔
 ماہر نفسیات تھامس لی کا خیال ہے کہ ایشیا میں سمارٹ فون کے استعمال کی بیماری  کو ’ سرکاری طور پر ذہنی بیماری‘ قرار دینا چاہیے ۔
اگر آپ میں بھی درج ذیل علامات موجود ہیں تو آپ خود کو اس بیماری کا شکار سمجھیں۔ 


بغیر کسی وجہ کے مسلسل فون کو دیکھنا۔
  فون کے بغیر ہونے کے خیال سے پریشان یا بےچینی محسوس کرنا
  فون پر وقت گزارنے کو سماجی تعلقات پر فوقیت دینا
  بیچ رات میں اپنے سمارٹ فون چیک کرنے کے لیے جاگنا
  فون پر زیادہ وقت گزارنے کے نتیجے میں تعلیم یا کام کی کارکردگی میں کمی آنا
 آسانی سے ای میلز یا سمارٹ ایپس سے متاثر ہوجانا

Comments