پولیس چاہتی تو مشعال کو بچالیتی مگر اس نے جان چھڑائی : آئی جی پولیس

مشعال قتل کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں 

آئی جی پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود کا کہنا ہے کہ مشعال خان قتل کے مقدمے میں 22ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے،جن میں 6یونیورسٹی ملازمین بھی شامل ہیں ۔ 




ان کا کہنا تھا کہ مشال خان کے سوشل میڈیا اکاونٹ کی تصدیق کے لئے ایف آئی اے کو درخواست دے دی ہے ،پولیس تفتیش میں مشعال ،عبداللہ اور زبیر پر الزام ثابت نہیں ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں 50سے 60سیکورٹی گارڈز بھی ہیں لیکن وہ تشدد نہ رکواسکے ۔ پولیس پہنچی تو مشعال کی لاش پڑی تھی اور عبداللہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہاتھا ۔۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور موقع پر 59 طلبا کو گرفتار کرلیا ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو جھگڑا شروع ہونے پر اطلاع ملی ، اگر اطلاع پہلے مل جاتی ہجوم کو روکا جاسکتا تھا ۔  

Comments